اُن کی یاد اُن کا خیال

عالَم کی جان، ذاتِ ستودہ⚠️ دو سرا⚠️ کی ہے

لاریب، دید اُن کی زیارت خُدا کی ہے

حق کا رسُول مظہرِ خلّاقِ کائنات

اُن کا وجود شانِ حسنِ⚠️ کِبریا کی ہے

مہر⚠️ و مہ و نجوم کی دِلکش تجلّیاں

یہ⚠️ روشنی تمام رُخِ مصطفیٰ کی ہے

پیدا ہمیں حبیبؐ کی اُمّت میں ہو کیا

ہم پر عطا یہ خالِقِ ارض و سما کی ہے

وحدت کا راز کہہ⚠️ کے خُدا آشنا کیا

یہ بات خاص سیّدِ خیر الورٰی کی ہے

محبوبؐ اُن کو اپنا بنایا ودود⚠️ نے

عِزّت یہ دی ہوئی انہیں ربِّ العلا کی ہے

ساجدؔ ہے عام فیضِ تجلّیِ حضورؐ کا

ہر بزم میں ضیاء⚠️ اسی مہرِ ہدیٰ⚠️ کی ہے