اُن کی یاد اُن کا خیال
1

مدینے میں ہیں بے کسوں کی پناہیں

ہیں آباد اس کی سدا شاہراہیں

2

بھریں گے وہ دامَنِ مِری آرزو کا

بھی رات دِن ہیں انہیں پر نگاہیں

3

یہاں چاہیے بِجُز اور انکساری

ہیں بے حدود بچے عَبث ہیں گناہیں ⚠️

4

ہے جب تک رواں دم، رہے ذِکرِ اُن کا

ہے جب تک لہو دِل میں، اُلفت نباہیں ⚠️

5

وہ بے صوت سُنتے ہیں دِل کی حِکایت

ہے تُرکِ ادب، شور، نالے، کراہیں

6

گُل تر ہے آئینۂ حُسنِ اُن کا

وہ مہر ہیں نُور کی بارگاہیں

7

نہیں مشکل اُن کو کوئی بات ساؔجِد

اُٹھے شاد کر دیں ہے شاہ چاہیں ⚠️