← اُن کی یاد اُن کا خیال
1
میری زبان پر ہوں دِن رات نام اُن کا
دِل سے کروں خُدایا! میں احترام اُن کا
2
روشن ہے اس کا سینہ، آسرار کا خزینہ
ہاتھوں میں جس کے آیا رخشندہ جام اُن کا
3
ذرّے جو خاک کے ہیں واصِلِ بدن سے اُن کے
عرشِ بَریں سے بھی ہے بالا مَقام اُن کا
4
وہ ذات کی تجلّی، جِسم اُن کا حق سرا پا
مُطلِق کلام حق ہے شیریں کلام اُن کا
5
ہے جلوۂ حقیقت ظاہر جبیں سے اُن کی
ہے طُورِ نُور حق کا محراب و بام اُن کا
6
بن کر قرار و تسکیں دِل میں اُتر گیا ہے
ہے دِلنشیں و دِلکش ایسا پَیام اُن کا
7
آزاد رنج و غم سے بھرتا ہے شاد و خُرّم
ہے جان و دِل سے ساؔجِد اُونا غلام اُن کا ⚠️