← اُن کی یاد اُن کا خیال
میری زبان پر ہوں دِن رات نام اُن کا
دِل سے کروں خُدایا! میں احترام اُن کا
روشن ہے اس کا سینہ، آسرار کا خزینہ
ہاتھوں میں جس کے آیا رخشندہ جام اُن کا
ذرّے جو خاک کے ہیں واصِلِ بدن سے اُن کے
عرشِ بَریں سے بھی ہے بالا مَقام اُن کا
وہ ذات کی تجلّی، جِسم اُن کا حق سرا پا
مُطلِق کلام حق ہے شیریں کلام اُن کا
ہے جلوۂ حقیقت ظاہر جبیں سے اُن کی
ہے طُورِ نُور حق کا محراب و بام اُن کا
بن کر قرار و تسکیں دِل میں اُتر گیا ہے
ہے دِلنشیں و دِلکش ایسا پَیام اُن کا
آزاد رنج و غم سے بھرتا ہے شاد و خُرّم
ہے جان و دِل سے ساجدؔ اُونا غلام اُن کا ⚠️