اُن کی یاد اُن کا خیال
1

اُن کے جمال و حُسن کی جب گفتگو کریں

پاسِ ادب سے بزم میں مت ہاؤ ہو کریں

2

مردانِ حق ہیں جام و سُبو استعارۃ

مَستی سے پہلے بیعتِ جام و سُبو کریں

3

آلائشوں سے شِرک کی ہو جان پاک صاف

آبِ زُلالِ نُور سے دِل کا وضو کریں

4

سینے کا داغ داغ بنا دیں گُل و سمن

وہ چاک چاک دامَنِ دِل کا رفو کریں

5

وہ خَلق کے وکیل وہ حق کی دلیل ہیں

ہم اُن کا ذِکرِ حسیں چار سُو کریں

6

روشن ہے کہکشاں کی طرح راہِ مُصطفٰیؐ

عام اس ضیائے پاک کو ہم کُو بکُو کریں

7

ساؔجِد طہارتِ دِل و جاں چاہیے اگر

پاکیزگی فکر و تخیّل کی خُو کریں