اُن کی یاد اُن کا خیال
1

تُو خالِقِ مُطلِق ہے ‘ جلوہ ہے عَیاں تیرا

ہر دور میں ہر دِل پر سِکہ ہے رواں تیرا

2

گُلشن میں ہر اِک طائر ہے زمزمہ خواں تیرا

محتاج کرم کا ہے ہر پیر و جواں تیرا

3

عالَم میں ہر اِک شے ہے مظہر تِری قدرت کی

یہ رنگ ‘ یہ رَعنائی ‘ یہ حُسنِ جہاں تیرا

4

گُلشن ہو کہ صَحرا ہو ‘ جنگل کہ سَمُندر ہو

موجُود ہے تُو ہر جا ‘ ہر نقش نِشاں تیرا

5

تُو وہم و گُماں سے بھی آگے ہے بہت آگے

اِدراک و اِحاطہ ہو ممکِن یہ کہاں تیرا

6

اندر ہو کہ باہر ہو ‘ ظاہر ہو کہ باطِن ہو

جو کچھ ہے عَیاں تیرا جو کچھ ہے نِہاں تیرا

7

سب تُجھ سے ہیں تیرے ہیں حق بات یہی ساؔجِد

موجُود بہر صورت ہے نُورِ عَیاں تیرا