اُن کی یاد اُن کا خیال

تُو خالِقِ مُطلِق ہے جلوہ ہے عَیاں تیرا

ہر دور میں ہر دِل پر ہستی کا ہے رواں تیرا

گُلشن میں ہر اِک طائر ہے زمزمہ خواں تیرا

محتاجِ کرم کا ہے ہر پیر و جواں تیرا

عالَم میں ہر اِک شے ہے مظہرِ تِری قدرت کی

یہ رنگ یہ رَعنائی یہ حُسن بتاں تیرا

یہ گُلشن ہو کہ صَحرا ہو جنگل کہ سَمُندر ہو

موجُود ہے تُو ہر جا ہر نقش نِشاں تیرا

تُو وہم و گُماں سے بھی آگے ہے بہت آگے

اِدراک و احاطہ ہو ممکِن ہے کہاں تیرا

اندر ہو کہ باہر ہو ظاہر ہو کہ باطِن ہو

جو کچھ ہے عَیاں تیرا جو کچھ ہے نِہاں تیرا

سب تُجھ سے ہیں تیرے ہیں بِجُز تیرے علم ساجدؔ

موجُود بہر صورت ہے تُو عَیاں تیرا