← شوقِ فراواں
رحمتوں کے ہیں خزینے سیّد و سرُور کے پاس
آبِ حیواں کا ہے چشمہ صاحبِ کوثر کے پاس
خوبِ محبوبِ خُدا جس کے مقدّر میں نہیں
بِجُز غم و اندوہ کیا ہے اُس دِلِ مُضطَر کے پاس
روزِ مَحشَر شانِ محبوبِ خُدا ہو گی عَیاں
امّتیں آئیں گی ساری شافعِ⚠️ مَحشَر کے پاس
کرتے ہیں تقسیم جاگیریں شہِ دیں کے فقیر
فی الحقیقت کچھ نہیں اسکندر و قیصر کے پاس
حق تعالیٰ نے کلیدیں غیب کی بخشیں انہیں
نعمتیں سب ہیں حبیبِ ربِّ بخشگر⚠️ و تر کے پاس
غوث اور ابدال سے اُونچا بہت اُن کا مَقام
بیٹھے جو اصحاب اِک لحظہ بھی پیغمبر کے پاس
دِل میں ساجدؔ داغِ اُلفت ہے نبی کی آل کا
کیا عجب ہے رنگِ⚠️ روشنی اِس تنِ لاغر کے پاس