شوقِ فراواں
1

رحمتوں کے ہیں خزینے سیّد و سرُور کے پاس

آبِ حیواں کا ہے چشمہ صاحبِ کوثر کے پاس

2

خوبِ محبوبِ خُدا جس کے مقدّر میں نہیں

بِجُز غم و اندوہ کیا ہے اُس دِلِ مُضطَر کے پاس

3

روزِ مَحشَر شانِ محبوبِ خُدا ہو گی عَیاں

امّتیں آئیں گی ساری شافعِ⚠️ مَحشَر کے پاس

4

کرتے ہیں تقسیم جاگیریں شہِ دیں کے فقیر

فی الحقیقت کچھ نہیں اسکندر و قیصر کے پاس

5

حق تعالیٰ نے کلیدیں غیب کی بخشیں انہیں

نعمتیں سب ہیں حبیبِ ربِّ بخشگر⚠️ و تر کے پاس

6

غوث اور ابدال سے اُونچا بہت اُن کا مَقام

بیٹھے جو اصحاب اِک لحظہ بھی پیغمبر کے پاس

7

دِل میں ساؔجِد داغِ اُلفت ہے نبی کی آل کا

کیا عجب ہے رنگِ⚠️ روشنی اِس تنِ لاغر کے پاس