← شوقِ فراواں
1
ہم کیش! سنا نعت مزاج آج ہے ناساز
آئے گا مزا خوب اگر دف کا ہوا ساز
2
اللہ نے محبوب کے ہاتھوں میں شِفا دی
بطلی⚠️ کے دواخانے میں طرفہ⚠️ ہیں دوا ساز
3
دم ہے مِرا اکیلا ہوا اور جان بھی بے کیف
مطرب ہے تجھے حق کی قسم اب تو اُٹھا ساز
4
یہ ایک حقیقت ہے کہ جمتی نہیں محفِل
اربابِ محبت کی بلا سوز⚠️ بلا ساز
5
ہو ذوقِ پرانا ہی پہ اسلوب نیا ہو
گئے اور بنا کوئی نیا اور بنا ساز
6
ہے نعت و ثَنا دِل کی غذا اہلِ ولا کی
سَرشار ہوا قلبِ ادھر جونہی بجا ساز
7
کیوں گوشۂ تاریک میں کھپکیں⚠️ اے ساؔجِد
اِس ٹوٹے ہوئے دِل سے بنائیں گے نیا ساز