شوقِ فراواں
1

با ادب ہوئے حرم انہیں خُوش اطوار قدم

تیز ہرگِز نہ ہوں ہوں تو ہوشیار قدم

2

سبزِ⚠️ گُنبد ہمیں جب سامنے آتا ہے نظر

شرم سے اُٹھتے نہیں ہیں یہ گنہگار قدم

3

آپؐ کی گلیوں میں چل کر ہمیں محسوس ہوا

ہم رکھیں جیسے سرِ⚠️ دامَنِ گُلزار قدم

4

عمر بھر کرتے رہیں طَیَّبہ کے رستے کا سفر

سنگ اور خار سے ہوتے رہیں ایثار⚠️ قدم

5

فاصلۂ منزِلِ مقصود کا ہے دور بہت

ساتھ تائیدِ خُدا ہو تو ہے دو چار قدم

6

یادِ عباس⚠️ میں کٹ جائیں ہمارے بازو

آگے بڑھتے ہی چلے جائیں وفادار قدم

7

اسوۂ شاہِ رُسُل کے ہیں جو پیرو ساؔجِد

چومیے⚠️ اُن کے عقیدت سے پُر اَنوار قدم