شوقِ فراواں
1

اتنی آپؐ کے سب آپؐ کے در پر پہنچیں

آپؐ کے جیتے ہیں فرمان وہ گھر گھر پہنچیں

2

فیض سب نبیوں کو سردارِ رُسل سے پہنچا

اوّل آئیں وہ مگر سب سے مؤخر⚠️ پہنچیں

3

اِک فقَط اُن کا تَصوُّر ہو فقَط اُن کا خِیال

بھول کر سارا جہاں روضۂ اَنُور پہنچیں

4

ہم سے ممکِن ہو اگر رحمتِ عالَم کے حضور

عنبر و مِشک کی خُوشبو میں نہا کر پہنچیں

5

دولتیں بٹتی⚠️ ہیں سُلطان کے در پر دِن رات

بھر کے لائیں گے وہ دامَن جو بے زر پہنچیں

6

اہلِ اسلام زَبُوں حال ہیں مجمل⚠️ عالَم میں

اُن کی اِمداد کو اے سیّد و سرُور! پہنچیں

7

آپؐ کے ہاتھ سے خیرات ملے رحمت کی

ساؔجِد اپنے بھی سرِ عرشِ مقدّر پہنچیں