← شوقِ فراواں
یہ عرض ہے حضورِ رِسالت مآبؐ میں
ساجدؔ کا نام بھی ہو خصوصی کتاب میں
یہ آرزوئے دِل مِری پوری ہو اے خُدا!
آئیں نظرِ رسُولِ خُدا روزِ خواب میں
میرے دِلِ حَزیں کو بہت حوصلہ ہوا
گُل ذِکرِ بجھ⚠️ گیا تھا شفاعت کے باب میں
ہم کو بھی ہو اِلٰہی! عطا نُورِ معرفت
کچھ بھی رہے نہ رازِ حقیقت حِجاب میں
حاصل جنہیں ہے نِسبتِ عالی حضورؐ کی
پڑتے نہیں وہ زِندگی بھر اِضطِراب میں
رخسارِ مصطفیٰ کی تجلّی کا فیض ہے
جو نُور منعکس ہے، مہ و آفتاب میں
ساجدؔ قسم خُدا کی اسے خوف ہے نہ غم
ذِکرِ درود جس کے ہے فرضِ⚠️ حِساب میں