شوقِ فراواں

یوں جامِ زِندگی میں شہد کا رس گھول لیتے ہیں

ہم اِک تسبیح⚠️ جب صلّی علیٰ⚠️ کی ذوق⚠️ لیتے ہیں

ہے وِجدان کہتے ہیں وہ میزانِ اہلِ دِل کی

بالیقین⚠️ مصطفیٰ وہ حالِ دِل کا قول لیتے ہیں

نبیؐ کے کارپردازوں⚠️ کو فُرصت ہی نہیں کوئی

قیمت⚠️ ہے یہ ہم لوگوں سے نہیں⚠️ کر بول لیتے ہیں

جو اہلِ شوق جاں دیتے ہیں شاہِ دیں کی خِدمت⚠️ پر

انہیں پھر سے مرنے کو یہ جینا مول لیتے ہیں

چدھر⚠️ دیکھیں دکھائیں دیں انہیں اَنوارِ قدرت کے

سبقِ توحید کا جو اپنے دِل میں گھول لیتے ہیں

خُدا کی جن پہ رحمت ہے انہیں خَلوت بھی جلوت ہے

جھکا⚠️ کر گردنیں اپنی درِ دِل کھول لیتے ہیں

پڑے ہیں شاہ کے کوچے میں جو ژولیدہ⚠️ مو ساجدؔ

گِرہ کتنی ہی پیچیدہ ہو دِل کی کھول لیتے ہیں