← شوقِ فراواں
پڑے ہیں رنج⚠️ و غم⚠️ شاہِ تاجدار میں ہم
مُدام رہتے ہیں خُوش لطیفِ⚠️ انتظار میں ہم
رُخِ رسُولؐ کی اِک بار اگر زیارت ہو
تمام عمر رہیں شُکرِ کردگار میں ہم
بنفسِ⚠️ شان کربلائی⚠️ سفر میں ہیں دِن رات
خُدا کے لُطف کے ہیں بحرِ⚠️ بے کنار میں ہم
انہیؐ کی یاد نبیؐ کا خِیال، شام و سحر
کبھی تو رکھتے ہیں اس قلبِ بیقرار میں ہم
بچھا لیا ہمیں دامَن میں شاہِ عالَم نے
گھرے تھے برسوں سے آلام کے غُبار میں ہم
ہمیں یقین ہے جائیں گے ہم مدینے کو
اگرچہ رکھتے نہیں کچھ بھی اختیار میں ہم
درودِ پاک ہمارا وظیفہ ہے ساجدؔ
بفضلِ ربِّ جہاں اس کے ہیں حِصار میں ہم