شوقِ فراواں
1

پڑے ہیں رنج⚠️ و غم⚠️ شاہِ تاجدار میں ہم

مُدام رہتے ہیں خُوش لطیفِ⚠️ انتظار میں ہم

2

رُخِ رسُولؐ کی اِک بار اگر زیارت ہو

تمام عمر رہیں شُکرِ کردگار میں ہم

3

بنفسِ⚠️ شان کربلائی⚠️ سفر میں ہیں دِن رات

خُدا کے لُطف کے ہیں بحرِ⚠️ بے کنار میں ہم

4

انہیؐ کی یاد نبیؐ کا خِیال، شام و سحر

کبھی تو رکھتے ہیں اس قلبِ بیقرار میں ہم

5

بچھا لیا ہمیں دامَن میں شاہِ عالَم نے

گھرے تھے برسوں سے آلام کے غُبار میں ہم

6

ہمیں یقین ہے جائیں گے ہم مدینے کو

اگرچہ رکھتے نہیں کچھ بھی اختیار میں ہم

7

درودِ پاک ہمارا وظیفہ ہے ساؔجِد

بفضلِ ربِّ جہاں اس کے ہیں حِصار میں ہم