شوقِ فراواں

روضہ سیدؐ ابرار نظر آتا ہے

رونشیں⚠️ عالَم اَنوار نظر آتا ہے

کیا نظر بخش و دِل آویز یہ دکھائیں ہیں

خوب طَیَّبہ کا ہے بازار نظر آتا ہے

ہر گردین⚠️ حرمِ حصن⚠️ میں ہے گنوں سر بیٹھا

ہر کوئی واقف آسرار نظر آتا ہے

گردنیں اُنس و ملائک کی ادب سے جھم⚠️ ہیں

سامنے وہ در سرکار نظر آتا ہے

جس کے ہیں زنب کر خوب سنہرا پگا⚠️

خاص وہ خادم دربار نظر آتا ہے

شاہؐ آفاق کی سنت ہے اُسے دِل سے عزیز

دیں کا بھی ہوادار نظر آتا ہے

لاکہ⚠️ دیوانہ محبت میں ہو ساجدؔ کوئی

آپؐ کے در پر وہ ہشیار نظر آتا ہے