شوقِ فراواں

سبز گُنبد کا وہ منار نظر آتا ہے

دِل کشا مطلع اَنوار نظر آتا ہے

مژدہ اے شوق! جو کہسار⚠️ نظر آتا ہے

اُن کی اُلفت میں گرفتار نظر آتا ہے

آپؐ کی روح⚠️ معطر سے ہے سرمست فضا

جس کو دیکھیں وہی سَرشار نظر آتا ہے

آپؐ کے لُطف سے ہر فرد کو آئیننہ⚠️ نُور

بخت ہر شخص کا بیدار نظر آتا ہے

صرف مفلس ہی نہیں اُن کی کی گلی کے سائل

میر و سُلطاں کوئی سردار نظر آتا ہے

محو رہتا ہے شہرِ⚠️ دیں کے تَصَوُّر میں سدا

جو ظاہر بھیم⚠️ ہے بے کار نظر آتا ہے

مجھے سوغات دروودوں کی نبیؐ کو ساجدؔ

زِندگانی سے جو بے زار نظر آتا ہے