شوقِ فراواں
1

دِل میں نبیؐ کے شہر کا عزم سفر تو ہے

آنکھوں پہ پیر خِیال یہ میرا ادھر تو ہے

2

اِنعام اُنؐ کی پاک تَوَجُّہ کا دیکھنا

در پر رسُولؐ پاک کے میری نظر تو ہے

3

لبریز اُنؐ کے لُطف سے ہو دامَن میں مراد

یہ التماس ہوتنوں⚠️ پہ شام و سحر تو ہے

4

سارا یہ فیض شہرِ⚠️ عالیٰ کے نام کا

محسوس ہو رہا ہے دُعا میں اثر تو ہے

5

وہ کون ہے کہ کرم پر آپؐ کا نہیں ہے

رحمت خُدائے پاک کی آفاق پر تو ہے

6

مجھے نہ مجھے کوئی یہ اِحسان آپؐ کا

ہر کوئی مصطفٰؐے سے بہرہ ور تو ہے

7

ساؔجِد ضرور اُس طرف اَنوار نظر آئیں گے

بارات⚠️ خُدا کے لُطف و کرم کا ادھر تو ہے