← شوقِ فراواں
1
جس طرح پھولوں سے خُوشبو کا پتا لگتا ہے
یوں رُخ شاہؐ سے عَیاں رب عَلا لگتا ہے
2
اُن کے فیضان کے کھلتے جاتے ہیں عُقدے
جس طرح ٹھوچے کو پیغام دیا لگتا ہے
3
حق سے جب کرتی ہے فریاد زُباں پڑھ کے درود
نالہ جاں حَزیں سے جا لگتا ہے
4
آپؐ کی یاد میں گرتا ہے جو روشن آنسو
یہ ذر خاص اُن کی عطا لگتا ہے
5
آرزودے شہرِ⚠️ لولاک میں جینا ہے ایک پل
زِندگی ساری سے وہ بسکہ جُدا لگتا ہے
6
خوب و ناخوب کی یہ بات ہے ناداندی کی
دِل کو مشتاق ہر کوئی جلوہ بھلا لگتا ہے
7
بیٹھا چاتا ہوں تَصَوُّر میں نبیؐ کے ساؔجِد
جس گھڑی کام کوئی اُلجھا ہوا لگتا ہے