شوقِ فراواں

اُنؐ کا یہ کرم ہے کہ مِرے دِل میں سُکوں ہے

شاداب اُجالوں سے مِری بزم درون ہے

بھیجیں انہیں⚠️ خُوش بخت نعمتِ سوغات

جو اُن کو ہیں بھولے⚠️ ہوئے حال اُن کا زَبُوں ہے

بے یاد نبیؐ زِندگی ہے موت سے بدتر

ہینے⚠️ میں کوئی دِل میں کوئی جگر خوں ہے

قُربان یہ اُنؐ کی کی لطیفہ طَیَّبہ کا اِحسان

طبیبی⚠️ کی اُن کی کشش قلب میں کتنی⚠️ درجہ⚠️ فرزوں ہے

پہنچا جو نبیؐ تک ہے وہ پہنچا خُدا تک

یہ سچ ہے حقیقت ہے کہاں حرف جنوں ہے

سرکار سے نِسبت ہے تو اعلی ہے مُقدّر

نِسبت اُن سے نہیں جو تو پھر بخت نگوں ہے

ساجدؔ مِرا وِردِ زُباں نعتِ نبیؐ کی

کیا خوف نبیؐ شوقِ نبیؐ راہ نموں ہے