شوقِ فراواں

خونی ہے بے مِثال جو شاہؐ زماں میں ہے

خُوشبو کہیں نہیں ہے جو اُن کے جہاں میں ہے

شمع رُخ رسُولؐ کی جاں بخش روشنی

خورشید و ماہ میں ہے سمٹ بن میں ہے

یہ جذب خاص نہیں عام ہے جہاں میں

کیا طرفہ کی کشش جو اویسؐ قرن⚠️ میں ہے

پکا ساکس ہے کفِ⚠️ نبیؐ پائے کمل کا

جو بھی جمال حسن و دلسترن⚠️ میں ہے

سارے جہاں میں نہیں کوئی جواب ان کا

جو ذری⚠️ و گُداز نبیؐ کے سُخن میں ہے

وہ دِل ہے بارگاہ تجلی⚠️ مصطفیؐ!

جو دِل کہ محمدؐؐ یاد و حسنؓ میں ہے

ساجدؔ نبیؐ کی نعت کے قابل ہے جو زُباں

قُربان جائیں ایسی زُباں جس کے ذہن میں ہے