← ذوقِ جمال
1
جس کو سیراب کیا تُو نے ، سدا سبز رہا
خنگ ہوتا ہی نہیں جو بھی ہے دریا تیرا
2
کبھی پھلتا ہی نہیں جس پر غضب ناک ہے تُو
خندہ زن رہتا ہے ہر پھول کھلایا تیرا
3
مجھ تیرے شکم کے آسرار کہاں کُھلتے ہیں
تُو اگر چاہے سمَجھ آئے تو معنا تیرا
4
ذرے ذرے پر تیرا تِرا ہو آئے عِنایَت ملے
ہر طرف دامَنِ اکرام ہے پھیلایا تیرا
5
ہیں پلٹتے میں گئے ، باقی و سرکش تیرے
سارے آفاق پر مضبوط ہے قبضہ تیرا
6
ذاتِ باقی ہے تِری ، قادرِ مُطلِق تُو ہے
بیتِ مقدس ہے تِرا ملکہ مدینہ تیرا
7
تیرے فرمان کی پابند جہاں کی ہر شے
عرش و کرسی ہیں تِرے ، سیّدؔ والا تیرا