ذوقِ جمال
1

عالَم ہست کا ہر ذرہ ، خُدایا! تیرا

دَہر تیرا ہے جہاں تیرا ، زمانہ تیرا

2

تُو اگر ساتھ ہمارے ہے تو کچھ خوف نہیں

ہمیں بھُولے نہ اِلٰہی ! کبھی رہتا تیرا

3

چار سُو ہستی مُطلِق کے شواہد ہیں عَیاں

ہر طرف آئے نظر دِل کو ، اُجالا تیرا

4

چشمِ حق سے کوئی دیکھے تو نظر آتا ہے

سارے عالَم میں وجود ایک ہی تنہا تیرا

5

پل میں تبدیل شب تار ہو روشن دِن میں

مردہ بھی زِندہ ہو، کانی ہے اشارہ تیرا

6

تیرے دِیدار کی طالب ہے جہاں کی ہر شے

ہم نے دیکھا ہے سَمُندر کو بھی پیاسا تیرا

7

تیرے در سے جو پھیرا دونوں جہاں کا نہ رہا

غیر سے دُور رہا جو بھی ہے شیدا تیرا