← ذوقِ جمال
1
کہاں اندازہ وانِ کے دامَنِ رحمت کا
ہر اِک سر پر ہے سایہ آپ کے دستِ عِنایَت کا
2
غمِ واندہ سے ہے حال کیوں پھرتے ہیں یہ ناداں
نبی کا نام اَقُدس جام ہے مشروبِ رحمت کا
3
زیارت کو شہرِ دین کے دراقدس پہ ہم جائیں
یہی نسخہ شفاء کا ہے ، یہی پیغامِ صحت کا
4
خُدا کا شُکر ہے ، دِلِ کو توسُّلی ، جاں کو راحَت ہے
خوشا⚠️ پہلے سے افزوں ترہے شوقِ اُن کی زیارت کا
5
فقَط اِخلاص ہے درکارِ راہِ عِشق و مَستی میں
نہیں زِنہَار اِس جام کام کچھ زہد و ریاضت کا
6
بچرِ محبوبِ حق ، حق تک رسائی ہو نہیں سکتی
نِشاں ہے خاص ، دِل پر داغِ اُن کی پاک نِسبت کا
7
فقَط خوشنودی حق ہو تِرا مقصود جانِ ساؔجِد
خِیال آئے تو ذرا سا بھی نہ دِل میں باغِ جنت کا