شوقِ فراواں
1

شاہؐ رُسُلؐ کی یاد دِل میں بسا چکے

اِنعامِ خاصِ ذاتِ خُدا سے وہ پا چکے

2

نجوِ مصطفٰےؐ کے نصیب کے معرفت ہوئی

نجوِ آپؐ کے گزند نصیب میں آ چکے

3

اُن کو نہیں ہے ابہرن کی تِیرَگی کا خوف

دِل میں جو شمعِ داغِ محبت جلا چکے

4

اُن کے دیارِ دِل میں ہیں کیا کیا تجلیاں

اُس بارگاہ کا جو تَصَوُّر جما چکے

5

بخشیشِ خُدا نے ان کو عجب سرفرازیاں

سر اپنے حق کے راتے میں جو چلا چکے

6

اب پوچھنے انہی کے غلاموں سے اُن کی بات

وحدت کا راز سیّدؐ عالَم بتا چکے

7

ساؔجِد وظیفہ جب سے ہمارا درود ہے

دردِ و الَم سے دامَنِ دِل ہم بچا چکے