شوقِ فراواں
1

اِک قبضہ سے یہ حالات سنور پھر سکر⚠️ جائیں گے

چہرے مرجھائے ہوئے پھر سے نکھر جائیں گے

2

در شہرِ حسن کا ہے رحمتِ خَلّاق کا در

چھوڑ کر در یہ جہاں والے کدھر جائیں گے

3

وحشتوں سے ہے مجھے راہبرِ منزِل

لے لے کے اللہ کا نام ہم گزر جائیں گے

4

سخت جاں ہوتے ہیں یہ تاجِ فرمانِ نبیؐ

یہ وہ راہی نہیں جو تھک کے گھر⚠️ جائیں گے

5

نام لیوا یہ نبیؐ کے ہیں انہیں کیا خطرہ

اہلِ کشتی یہ سبھی پار اُتر جائیں گے

6

آپؐ اللہ کے محبوب سے مایوس نہ کریں

چپتے بھی خالی ہیں دامان یہ بھر جائیں گے

7

نعت خوانی ہی مُقدّر ہوا ساؔجِد جن کا

نعت پڑھتے ہوئے جائیں گے ادھر⚠️ جائیں گے