← شوقِ فراواں
1
کوئی بدبخت ہی آقاؐ سے محبت نہ کرے
قائم اُس درِ سے دِل و جاں کی وہ نِسبت نہ کرے
2
تمگسارؔ⚠️ اُن سے نہیں بڑھ کے کوئی دُنیا میں
کیوں کوئی اُن سے بیاں غم کی حِکایت نہ کرے
3
اُن کی یادوں سے فُرُوزَاں مِرا وجداں ہوا
دِل یہ کیوں اُن کے خیالوں کی رفاقت نہ کرے
4
حق تعالیٰ کا ادا شُکر کرے شام و سحر
بندے کو چاہیے ہرگِز وہ شِکایت نہ کرے
5
حقِ محبوبؐ سے اُلفت ہے خُدا سے اُلفت
مردِ درویش کسی اور کی چاہت نہ کرے
6
آپؐ میں جذبِ حقیقت ہے حقیقت جانو
کیوں غُلامِ آپؐ کا اظہارِ حقیقت نہ کرے
7
وہ معزز نہیں ہو سکتا جہاں میں ساؔجِد
آپؐ کے اہلِ قرابت کی جو عزت نہ کرے