← شوقِ فراواں
کوئی بدبخت ہی آقاؐ سے محبت نہ کرے
قائم اُس درِ سے دِل و جاں کی وہ نِسبت نہ کرے
تمگسارؔ⚠️ اُن سے نہیں بڑھ کے کوئی دُنیا میں
کیوں کوئی اُن سے بیاں غم کی حِکایت نہ کرے
اُن کی یادوں سے فُرُوزَاں مِرا وجداں ہوا
دِل یہ کیوں اُن کے خیالوں کی رفاقت نہ کرے
حق تعالیٰ کا ادا شُکر کرے شام و سحر
بندے کو چاہیے ہرگِز وہ شِکایت نہ کرے
حقِ محبوبؐ سے اُلفت ہے خُدا سے اُلفت
مردِ درویش کسی اور کی چاہت نہ کرے
آپؐ میں جذبِ حقیقت ہے حقیقت جانو
کیوں غلامِ آپؐ کا اظہارِ حقیقت نہ کرے
وہ معزز نہیں ہو سکتا جہاں میں ساجدؔ
آپؐ کے اہلِ قرابت کی جو عزت نہ کرے