← شوقِ فراواں
1
یہ کاروانِ شہرِ نبیؐ کا ابھی چلے
پھر سے دِلوں میں موجِ حیات آج ہی چلے
2
دور نگاہو⚠️ اِس سے آئیں ہیں بت بھی⚠️ سبھی چلے
ہم مجھ انتظار ہیں باقی سبھی چلے
3
اُن کی حیات پُرزشنی⚠️ ہے سر بسر سرود
آب حیات اُن کے جو ہاتھوں سے پی چلے
4
اصحابؓ ہیں جو جواب خود اپنے مَقام کا
عالَم میں بن کے سرسے تا پا روشنی چلے
5
اللہ نے تمام کیا دین آپؐ کو
حضرتِ محمدؐؐؐؐ آخری ہو کر نبیؐ چلے
6
مظہر ہیں وہ صِفات اور اسماءِ ذات کا
بن کر بشر وہ نُور کا سرو سہی⚠️ چلے
7
ساؔجِد جہاں میں آپؐ معزز ترین ہیں
رسواِ⚠️ جہاں سے اُن کے سبھی مددی چلے