← شوقِ فراواں
یہ کاروانِ شہرِ نبیؐ کا ابھی چلے
پھر سے دِلوں میں موجِ حیات آج ہی چلے
دور نگاہو⚠️ اِس سے آئیں ہیں بت بھی⚠️ سبھی چلے
ہم مجھ انتظار ہیں باقی سبھی چلے
اُن کی حیات پُرزشنی⚠️ ہے سر بسر سرود
آب حیات اُن کے جو ہاتھوں سے پی چلے
اصحابؓ ہیں جو جواب خود اپنے مَقام کا
عالَم میں بن کے سرسے تا پا روشنی چلے
اللہ نے تمام کیا دین آپؐ کو
حضرتِ محمدؐؐ آخری ہو کر نبیؐ چلے
مظہر ہیں وہ صِفات اور اسماءِ ذات کا
بن کر بشر وہ نُور کا سرو سہی⚠️ چلے
ساجدؔ جہاں میں آپؐ معزز ترین ہیں
رسواِ⚠️ جہاں سے اُن کے سبھی مددی چلے