شوقِ فراواں

خواجہ اہلِ جہاں نُور خُدا یاد رہے

ربِّ عالَم کا یہ احساں بڑا یاد رہے

مرحبا سیّدِؐ عالَم کی عطا یاد رہے

یہ درود آپؐ پہ اے کاش! سدا یاد رہے

راہِ حضرتؐ کی ہے راہ اِک راہِ عمل پیچنے⚠️

اُن کا اسلوب طریق اور ادا یاد رہے

سلسلہ سانس کا جاری رہے حق کی خاطِر

ہم کو فرمانِ خُدا صبح و سما یاد رہے

بارشیں لُطف و عِنایاتِ کی بہارِ کی

مہربانی شہرِؐ ارض و سما یاد رہے

ہیں طرناک مدینے کے حَسِیں شام و سحر

عمر ساری یہ ہمیں آب و ہوا یاد رہے

اپنے بیگانے ہمیں بھول بھی جائیں ساجدؔ

عمر بھر ہم کو مدینے کا پتا یاد رہے