شوقِ فراواں
1

جہاں سارا ہے پیغمبرؐ جہاں کے لیے

تمام نعتیں آقائے مِہرباں کے لیے

2

مدینے جاؤں مِرا دِل ہے رات دِن مُضطَر

پرندہ جیسے ہو بے چین آشیاں کے لیے

3

کوئی بھی چیز لُبھاتی نہیں مِرے دِل کو

ترس گئی ہے نظر اُن کے آستاں کے لیے

4

مشرفِ آپؐ کے قدموں سے عرشِ پاک بُہوا⚠️

یہ بات فخر کی ہے بامِ آسماں کے لیے

5

سمَجھ میں آ نہیں سکتی وہ ذات ہے ہمتا

نِشاں چاہیے کچھ ذات بے نِشاں کے لیے

6

نہیں ہے علمِ کی دولت نہ کوئی استعداد

نہیں ہے کچھ بھی مِرے پاس امتحاں کے لیے

7

سہارا اور نہیں چاہیے مجھے ساؔجِد

نبیؐ کا نام ہے کافی مجھے اماں کے لیے