شوقِ فراواں
1

نبیؐ کی خاک در کے ذرے انجم بنیں نکلی⚠️

خدف ریزے بھی اُن کی رہ کے کیا ذرِّ زمیں نکلی

2

گدلایاں نبیؐ پھرتے ہیں گلیوں میں غُبار آلود

انہیں دیکھا چشمِ جاناں جو تو کری نہیں نکلی

3

اُتر جاتی ہے دِل میں ہر حدیثِ آقائے عالَم کی

ریلی اور شیریں اُن سے گویا آنکھیں⚠️ نکلی

4

پس از مست مدت شگاف آئے پگ⚠️ کبہ⚠️ قبروں میں

چمکے ماہ اور اختر گُلی زیرِ زمیں نکلی

5

بہت سی آرزووں کے کھلے شُنع⚠️ بعد اللہ

مگر ارماں نبیؐ کی دید کے دِل سے نہیں نکلی

6

بہت اُلجھے ہوئے تھے کامِ سلجھے چشمِ رحمت سے

چُھنتے تھے پاؤں دلدل سے بفضلِ شاہؐ دیں نکلی

7

ہمیں ساؔجِد نظر آئے بہت کم طالبِ مولیٰ

یہ اہلِ زہد سارے طالبِ خُلدِ بَریں نکلی