جانِ جہاں

چمکتی شمعِ نبی ﷺ کی جو شاہراہیں ہیں

اُنہی کی دید کو بے تاب یہ نگاہیں ہیں

نبی ﷺ کے چاہنے والے ہیں رات دِن شاداں

عَدُوّ کے لب پہ دھواں ہے مُدام آہیں ہیں

بنفیضِ صلّی علیٰ دِل میں راحتیں ہیں مکیں

محبّتوں سے بھری یادیں اور چاہیں ہیں

بہارِ گُل ہو کہ قوسِ قزح کا رنگِ جمال

نبی ﷺ کے نُور کی دِلکش یہ بارگاہیں ہیں

عجیب مشغلوں میں معرفت کے ہیں طالب

کہ خالی اب تو محبّت سے خانقاہیں ہیں

خُدا کے واسطے اِک چشمِ لُطف اے آقا!

لیاقتیں نہ رہیں اور نہ دستگاہیں ہیں

فقَط طہارتِ دِل چاہیے یہاں ساجدؔ

عَبث تجائیں⚠️ ہیں بے فائدہ کلاہیں ہیں