نور و سرور
1

دِل ہے تاریک مِرا ‘ روشنی والے خواجہؐ!

بھیجیٔے میری طرف نُور کے ہالے خواجہؐ!

2

بھر دیئے لُطف نے جتنے بھی تہی تھے دامِن

تشنہ کاموں نے پیئے بھر کے پیالے خواجہؒ!

3

دیتے خیرات فقیرؐ آپؐ کے ہیں شاہوں کو

ہیں گَدا آپ کے دُنیا سے نِرالے خواجہؐ!

4

آپؐ کے خوانِ نَوازِش سے طلب گار ہوں میں

دیں اِسی سے مجھے دو چار نوالے خواجہؐ!

5

کب سے ہے جان مِری بندِ حوادث میں اسیر

کھولیے دِل پہ پڑے آ ہنی تالے خواجہؐ!

6

بخشوَائیں گے مجھے آپؐ ہی روزِ مَحشَر

آپؐ سنتے ہیں دِلِ زار کے نالے خواجہؐ!

7

جانِ ساؔجِد کی غمِ دَہر سے پائے گی نَجات

اپنا للّٰہِ فقیر اِس کو بنالے خواجہؐ!