← نور و سرور
1
لُطفِ نبیؐ سے ذرّہ ضِیا بار ہو گیا
سویا ہُوا نصیب تھا، بیدار ہو گیا
2
ظُلمت سے شِرک کی بہت تاریک تھا اُفق
اُن کی نظر سے مطلعِ اَنوار ہو گیا
3
جس رَہ پہ وہ چلے وہی ہے راہ مُستقیم
نقش اُن کے پا کا دین کا معیار ہو گیا
4
عالی نصیب ہے جسے وہ در ہُوا نصیب
خُوش بخت ہے جو حاشیہ بردار ہو گیا
5
شہرِ نبیؐ کے راستے ہیں رُوکشِ جہاں
صَحرا بفیضِ مصطفٰیؐ گُلزار ہو گیا
6
گرداب میں سفینہ مِرا ڈوبنے کو تھا
اِک چشمِ اِلتِفات سے وہ پار ہو گیا
7
ساؔجِد کو بزم میں کوئی پہچانتا نہ تھا
نعتِ نبیؐ وسیلۂ اظہار ہو گیا