نور و سرور

لُطفِ نبیؐ سے ذرّہ ذرّہ ضِیا بار ہو گیا

سویا ہُوا نصیب تھا، بیدار ہو گیا

ظُلمت سے شِرک کی بہت تاریک تھا اُفق

اُن کی نظر سے مطلعِ اَنوار ہو گیا

جس رَہ پہ وہ چلے وہی ہے راہِ مستقیم

نقشِ اُن کے پاک دین کا معیار ہو گیا

عالی نصیب ہے جسے وہ در ملا ہُوا نصیب

خُوش بخت ہے جو حاشیہ بردار ہو گیا

شہرِ نبیؐ کے راستے ہیں رُوکش جہاں

صَحرا بفیضِ مصطفیٰؐ گُلزار ہو گیا

گرداب میں سفینہ مِرا ڈوبنے کو تھا

اِک چشمِ اِلتِفات سے وہ پار ہو گیا

ساجد کو بزم میں کوئی پہچانتا نہ تھا

نعتِ نبیؐ وسیلۂ اظہار ہو گیا