نور و سرور

بُلائیں لیتا ہے عرش، بَریں مدینے کی

ہے آسماں سے بھی اُونچی زمیں مدینے کی

ہے جلوہ گاہِ نبیؐ رحمتوں کا گہوارہ

فضا ہے سکتنی جمیل و حَسِیں مدینے کی ⚠️ [سکتنی: شاید "سکوت میں" یا "ستائی"]

نبیؐ کے شہرِ مقدّس کا تذکرہ چھیڑو

ہے داستاں بہت دِلنشیں مدینے کی

نکال راہ، بُجھے تَشنَگیِ قلب و نظر

سَمبل ڈھونڈ کوئی ہم نشیں! مدینے کی

قدم قدم پہ یہاں قیمتی خزانے ہیں

ہے موتیوں سے بھری سرزمیں مدینے کی

ہر ایک صبح زہے۔۔۔اور ہر شب

شبِ برات سے کچھ کم نہیں، مدینے کی

نبیؐ کے شہر سے لوٹے ہیں قافلے ساجد

چلی ہوائے نِشاط آفریں مدینے کی