← نور و سرور
1
بَلائیں لیتا ہے عرشِ بَریں مدینے کی
ہے آسماں سے بھی اُونچی زمیں مدینے کی
2
ہے جلوہ گاہِ نبیؐ رحمتوں کا گہوارہ
فضا ہے کتنی جمیل و حَسِیں مدینے کی
3
نبیؐ کے شہرِ مقدّس کا تذکرہ چھیڑو
ہے داستاں بہت دِلنشیں مدینے کی
4
نکال راہ بُجھے تَشنَگی؟ قلب و نظر
سَبیل ڈھونڈ کوئی ہم نشیں! مدینے کی
5
قدم قدم پہ یہاں قیمتی خزانے ہیں
ہے موتیوں سے بھری سرزمیں مدینے کی
6
ہر ایک صبح زہےصبحِ عیداور ہر شب
شبِ برات سے کچھ کم نہیں، مدینے کی
7
نبیؐ کے شہر سے لوٹے ہیں قافلے ساؔجِد
چلی ہوائے نِشاط آفریں مدینے کی