نور و سرور
1

بنامِ شاؐہِ رُسُلؑ ساز اُٹھا محبت کا

سرُور و کیف میں نغمہ سُنا محبت کا

2

ہر ایک شاخِ خزاں دیدہ وجد میں آئے

لگا کے نعرہ وہ طوفاں اُٹھا محبت کا

3

نبیؐ کی یاد مسرّت کا ایک دفتر ہے

خُوشی کا تذکرہ ہے ماجرا محبت کا

4

ہر اِک زُباں پہ ہو سُرخی فسانۂ حق کی

جہاں میں عام ہو رنگِ حِنا محبت کا

5

بفیضِ شوق ہیں سَرشار میرے شام و سحر

عجیب کیف ہے صلِّ علیٰ محبت کا

6

عزیز تر ہے زمانے کی عیش و راحَت سے

مجھے جو درد ہے بخشا ہُوا محبت کا

7

نبیؐ کی نعت میں ساؔجِد مگن ہے شام و سحر

ہے خُوش نصیب یہ نغمہ سرا محبت کا