نور و سرور
1

شبِ رنج و غم کی سحر ہو رہی ہے

یہ اُن کے کرم کی نظر ہو رہی ہے

2

نَوازِش ہے اُن کی مِرے حالِ دِل پر

بڑے ہی مزے میں بسر ہو رہی ہے

3

یہ کون آ گیا ہے خیالوں میں میرے

کہ خَلوت بھی اب نغمہ گر ہو رہی ہے

4

بِلا امتیاز اُن کی بارانِ رحمت

ہر ایک خویش و بیگانہ پر ہو رہی ہے

5

چھِڑا تذکرہ اُن کی مہر و وفا کا

ہر اِک آنکھ محفِل میں تر ہو رہی ہے

6

مِری عرضِ بے صوت وہ سُن رہے ہیں

مِرے دِل کی اُن کو خبر ہو رہی ہے

7

فقَط میں نہیں موردِ لُطفِ ساؔجِد

سب اہلِ جہاں پر نظر ہو رہی ہے