نور و سرور

مِرے بھی نام ہو کوئی پَیام بَطحا کا

لبوں پہ آئے دِلِ افروز جام بَطحا کا

حدیثِ شہرِ نبیؐ ہے بہت ہی جاں اَفِزا

سُکوں نَواز ہے بے حد کلام بَطحا کا

پَیام عید ہیں باتیں مجھے مدینے کی

میں چُومتا ہوں بصد شوق نام بَطحا کا

بہت ہی پست نگر، کم نظر ہے چشمِ خِرد

نِگاہِ شوق سے پوچھیں مَقام بَطحا کا

بقدرِ ظرف سمایا ہر ایک دِل میں سرُور

ہے فیض یافتہ ہر خاص و عام بَطحا کا

یہ واقعہ ہے، اُنہیں کا ضمیر روشن ہے

جنھوں نے دِل سے کیا احترام بَطحا کا

حرم کے صحن کی ہیں خاکروب یہ پلکیں

بجان و دِل ہوا ساجد غلام بَطحا کا