← نور و سرور
1
اُن کی دہلیز پہ جُھکتا ہے زمانہ‘اللہ
وہ ہیں اللہ کی رحمت کا خزانہ ‘اللہ
2
اُن کی رُودادسے محفِل کو سُرور آ جائے
حال آئے جو سُنیں اُن کا فسانہ ‘ اللہ
3
دُور و نزدیک ہیں اُن کی نِگاہوں میں عَیاں
اُن کے سر پر ہی سجے تاجِ شہانہ ‘ اللہ
4
اُن کی سیرت کی نہیں کوئی بھی دُنیا میں مِثال
اُن کی صورت بھی ہے لاریب یگانہ ‘ اللہ
5
اب تو للّٰہِ کرم ہو ‘ مجھے بُلوائیں حضورؐ
قافلے ہوتے ہیں ہر روز روانہ ‘ اللہ
6
اُن کی رحمت سے سدا اُن کے فقیروں میں رہوں
ساتھ اُن کے میں چلوں شانہ بشانہ ‘اللہ
7
اب تو ساؔجِد کے بھی نام آئے حضوریؐ کا پَیام
گائے یہ اُن کا فقیر اُن کا ترانہ ‘ اللہ