← شوقِ فراواں
1
دیکھا جو مہ پہ شاہ کا حق آسماں پر
شیطاں کا رنگ ہو گیا فق⚠️ آسماں پر
2
پڑھنے لگے فرشتے کھڑے ہو کے شوق سے
پہنچا جو نعت کا یہ ورق آسماں پر
3
کیا عطر بیز روحِ جَنابِ رسُول ہے
جاتی ہے اُن کی منکبِ⚠️ عرقِ آسماں پر
4
شاہِ جہاں کے گُنبدِ خضری کو دیکھ کر
ہے پھڈکتی⚠️ طَرَب سے مشتقِ⚠️ آسماں پر
5
اُن کی خُوشی میں بنتے ہیں اِس خاک سے ولی
شُکر کے طشت اور طبق آسماں پر
6
صلِّ علی کا شور فرشتوں کے لب پہ تھا
صَحرا تھا نُور کا دقِ و دق⚠️ آسماں پر
7
ساؔجِد نبی کی حاضری کو آئیں فوج فوج
موجُود ہیں جو لشکرِ حق آسماں پر