← شوقِ فراواں
فرمائیں نظر جس کی طرف احمدِ مُختار
پہنائیں اُسے تاجِ شرف احمدِ مُختار
اُن جیسے جواہر کی نَظِیر اور کہاں ہے
عالَم میں ہے بے مِثل صدف احمدِ مُختار
اِس لحمک⚠️ لحمی⚠️ سے قرابت ہے خفیاں⚠️
رہتے میں جُدا شاہِ نجف احمدِ مُختار
اِس بات کی ملتی ہی نہیں کوئی مِثال اور
آدم کے سلف اور خلف احمدِ مُختار
اِک چشمِ عِنایَت سے بنا دیں اے یاقوت
دیکھیں جو بھی سوئے خَذف⚠️ احمدِ مُختار
مٹ جائے سیاہی میرے اَعمال کی ڈھکیر⚠️
دیکھیں جو مجھے فردِ بکف⚠️ احمدِ مُختار
امّت کے نِگہبان و محافظ ہیں وہ ساجدؔ
دِل ہونے نہ دیں غم کا ہدف احمدِ مُختار