شوقِ فراواں
1

فرمائیں نظر جس کی طرف احمدِ مُختار

پہنائیں اُسے تاجِ شرف احمدِ مُختار

2

اُن جیسے جواہر کی نَظِیر اور کہاں ہے

عالَم میں ہے بے مِثل صدف احمدِ مُختار

3

اِس لحمک⚠️ لحمی⚠️ سے قرابت ہے خفیاں⚠️

رہتے میں جُدا شاہِ نجف احمدِ مُختار

4

اِس بات کی ملتی ہی نہیں کوئی مِثال اور

آدم کے سلف اور خلف احمدِ مُختار

5

اِک چشمِ عِنایَت سے بنا دیں اے یاقوت

دیکھیں جو بھی سوئے خَذف⚠️ احمدِ مُختار

6

مٹ جائے سیاہی میرے اَعمال کی ڈھکیر⚠️

دیکھیں جو مجھے فردِ بکف⚠️ احمدِ مُختار

7

امّت کے نِگہبان و محافظ ہیں وہ ساؔجِد

دِل ہونے نہ دیں غم کا ہدف احمدِ مُختار