← شوقِ فراواں
شاہِ رُسُل کا کون ہے ہمسر زمیں پر
کوئی نہ آیا اُن کے برابر زمیں پر
حوریں سجا کے لائی ہیں بھجوے⚠️ درود کے
صلِّ علی کا ذِکر ہے گھر گھر زمیں پر
قُدسی ہیں محوِ ذِکرِ فلَک پر شبانہ روز
جلوۂ قلیں⚠️ اگرچہ ہیں سرُور زمیں پر
دیتے ہیں حاضری جہاں قُدسی و جنّ و اُنس
ملکجائے⚠️ کائنات ہے وہ در زمیں پر
ہیں قُدسیوں میں تَذکِرے جس کے جمال کے
وہ ہے خُدا کے نُور کا پَیکر زمیں پر
مِعراج کی تھی رات نوئے⚠️ لامَکاں گئے
جن کا ہے پاک روضۂ اَنُور زمیں پر
ساجدؔ کو نعت گوئے محمدؐ سے ہے غرض
گرچے ہیں بے شُمار سخنور زمیں پر