شوقِ فراواں
1

در شہرِؐ دیں کا نہ چھوڑیں ہم پہ یہ شیمِر⚠️ ہے

ریچے⚠️ بیوستہ سدا شاخِ شجر کہتی ہے

2

جو بھی نظارہ ہے آئینہ ہے تمام حیرت ہے

نُور ہی نُور جہاں دِل کی نظر کہتی ہے

3

راز وحدت کا کُھلا ہے جس سے ہیں وہ شاداں

ٹونپتے⚠️ کیسے ہیں ہواؤ بل⚠️ باو⚠️ گر کہتی ہے

4

اُن کی اُلفت سے مجھے سبرا وَصل نصیب

ہر نَواز⚠️ کچھ بھی ہو معمور اثر⚠️ کہتی ہے

5

حق نے بخشی جو فضیلت اسے گُل کل⚠️ عالَم پر

حق کا اِنعام ہے تقدیرِ بشر کہتی ہے

6

صورتِ سیّدِؐ لولاک ہے بے صورت سے

عارِفِ گولڑہ کی کلکبِ⚠️ گھر کہتی ہے

7

عبدہِ سے ہے یہ عَیاں عبداً⚠️ ہو نہیں نہیں

ہے غلط اِس کے سِوا عقل اگر کہتی ہے