شوقِ فراواں
1

دُنیا میں روشنی ہے جو خورشید و ماہ کی

یہ ہے ضیائے فیضِ رِسالتِ⚠️ پناہ کی

2

جھمٹے ہیں چیش خسرو دیں خود سروں کے سر

گردوں انہی کے در کی ہے غمِ بادشاہ کی

3

پیچر⚠️ تھے جن کے دِل کا خُدا آشنا ہوئے

تاثیر ہے اُن کرمِ کی نِگاہ کی

4

رحمت ہے مُنتَظر کو پکارے کوئی آسے

رحمت وہیں پہ آئی جس جہاں نے آہ کی

5

محروم ذاتِ وظیفہ حق کے جو بھی ہے

نادانیوں میں زِندگی اُس نے تباہ کی

6

ہیں سنگریزہ راہِ نبیؐ کا مجھے شمر

خُوشیاں ہیں دِل کی سنتیاں⚠️ یہ اُن کی راہ کی

7

ساؔجِد کرے گی رحمتِ حق سرخرو مجھے

آئے گی نظر اُسے جب کٹھوری⚠️ گناہ کی