شوقِ فراواں

دُنیا میں روشنی ہے جو خورشید و ماہ کی

یہ ہے ضیائے فیضِ رِسالتِ⚠️ پناہ کی

جھمٹے ہیں چیش خسرو دیں خود سروں کے سر

گردوں انہی کے در کی ہے غمِ بادشاہ کی

پیچر⚠️ تھے جن کے دِل کا خُدا آشنا ہوئے

تاثیر ہے اُن کرمِ کی نِگاہ کی

رحمت ہے مُنتَظر کو پکارے کوئی آسے

رحمت وہیں پہ آئی جس جہاں نے آہ کی

محروم ذاتِ وظیفہ حق کے جو بھی ہے

نادانیوں میں زِندگی اُس نے تباہ کی

ہیں سنگریزہ راہِ نبیؐ کا مجھے شمر

خُوشیاں ہیں دِل کی سنتیاں⚠️ یہ اُن کی راہ کی

ساجدؔ کرے گی رحمتِ حق سرخرو مجھے

آئے گی نظر اُسے جب کٹھوری⚠️ گناہ کی