← شوقِ فراواں
1
مُنتَظر ہیں اُن کے متوالے پڑے
راہ میں ہیں نُور کے ہالے پڑے
2
ہم سفر بے ذوق یکسر ہے عذاب
کوس⚠️ سارے راہ کے کالے پڑے
3
کل گزر دُنیا کے کوچے سے ہوا
ہر طرف سے کان میں نالے پڑے
4
اُس کے لب پر محضِ⚠️ ذِکر حور تھا
آج ہم پلے⚠️ زاہد کے پالے پڑے
5
کچھ مسافِر عمر بھر چلتے رہے
پاؤں پر اُن کے نہیں چھالے پڑے
6
طَیَّبہ اور کہ مکہ گزرا وقت خوب
رحمتوں کے رات دِن جھالے⚠️ پڑے
7
روکتِ حق نے اُن کو نصیب ہو ساؔجِد
جن کے دِل کے در پہ ہیں تالے پڑے