← شوقِ فراواں
1
راہِ حق پر رواں رہنے کو کیا پتھر کو سمجھاتے
گرے سجدے میں گر اُس کو کیندگر⚠️ شعلہ⚠️ خود سر کو سمجھاتے
2
یہ چلنا خود سے سری⚠️ تیز و تند اُس کا ناچلنا⚠️ ہے
خوشاَ⚠️ جھوکے⚠️ ہوائے ہواء کے صرصر کو سمجھاتے
3
لب لعلیں کو تو نے مس کیا ہے اے لب ساغرا⚠️!
لگانا مُنہ نہ جام جم کو یہ ساغَر کو سمجھاتے
4
صفائے آئینہ میں عمر ساری کی رنگینیِ روشنِ⚠️ نہ
نہ دیکھا رنگ اپنا یا ہم اپنا روشنگر کو سمجھاتے
5
نبیؐ کی یادِ میں روتے ہیں جن کا بخت عالی ہے
جو سمجھائے کی ہوتی بات چشم تر کو سمجھاتے
6
دِلوں میں زر کا بار جانا شقاوت کی علامت ہے
گذر ہو جب تک زر کا⚠️ یہ اہلِ زر کو سمجھاتے
7
اگر ملنا خُدا سے ہے نبیؐ سے ہم ملیں پہلے
اگر ساؔجِد ہمارے ہیں بس میں ہم سب کو سمجھاتے