ذوقِ جمال

حدیثِ مصطفیٰؐ میں ہے مزاِ⚠️ کرحلاوت کا

جہاں میں ہے افاق سے تا اُفقِ چار رِسالت کا

مِرے دِل میں تھی کوئی تمنا گوہر و زر کی

فقَط ہے روز افزوں شوقِ آقاؐ کی زیارت کا

حسینؓ ابنِ علیؓ نے سرِ کنا گر کے گواہی دی

جُدا رستہ ہے حق کے نُور سے باطِل کی ظُلمت کا

مِثال ماہ کامِل ضرورتیں آل مَنا کی ہیں⚠️

ہر اِک فردِ "اُن" کا مظہر ہے تجلیِّ حقیقت کا

مجھے اولے ہے داغِ دِل، سریو تاج وشایی⚠️ سے

علامت یہ محبت کی ، نِشاں یہ نمبر ہمبر⚠️ نِسبت کا

حسودوں کے پریشاں حال و بد انجام و احترام ہیں

جہاں میں چارنسو ہے شوقِ ساجدؔ کی عزت کا

خُدا کی کُل خدائی کے وہ خیر اندیش ہیں ساجدؔ

رسُول اللہ کا حقِّ دینِ اللہ کی ، پَیکر ہیں رحمت کا