ذوقِ جمال

محبوبِ خُدا ، جانِ مسیحا ہے ہمارا

بے مِثل جہاں سارے میں آقاؐ ہے ہمارا

ہم آپؐ کے اَنوار میں آباد ہیں دِن رات

ظُلمت میں جمالِ اُن کا ، اُجالا ہے ہمارا

اُن کی نظر جب سے ہمارے دِل و جاں پر

حال دِل و جاں خوب بھلے ہے ہمارا

مِعراج کی رودوادنے کیا شُکولے⚠️ ہیں عُقدے

ہر فِکر و گُماں ، عُقدہ شریا⚠️ ہے ہمارا

خوشحال ہے جس کے ہیں اِب ، نامِ نبیؐ سے

مانا ہُوا آفاق میں دعویٰ ہے ہمارا

ہم اُن کے ہیں ، ہر ایک قلمرو ہے ہماری

یہ کوہ ہے ہمارا یہ دریا ہے ہمارا

اسلام کا بلتہ⚠️ ہو جہاں سارے میں جاری

ساجدؔ یہی اِک حرف تمنا ہے ہمارا