شوقِ فراواں
1

وِلائے مصطفٰےؐ بُس جانے ہمارے دِل کے اُس میں

اَلٰی! عمر گزرے شاہِ مقدّس کے شہرِ مقدّس میں

2

خُدا کی ذات کی تقسیم ہے اِک اور نامکن

خُدا کی ذات ہے جو موجُود ہر کُس اور ناکس میں

3

جہاں سے جس قدر چاہے عَیاں ہو ذات بے ہمتا

مَشیّت ہے یہ سب کُس⚠️ اُس کی نہیں انسان کے بس میں

4

صِفاتِ حق کے جلووں کی زیارت گاہ یہ عالَم

ہیں اشیاء میں یہ جَلوے جس طرح خُوشبو نِہاں گُلشن میں

5

صِفات و ذات و اسما کے ہیں مظاہر سیّدِ عالَمؐ

انہیں محرابِ جاں کہتا ہوں میں کھا کھا کے⚠️ سوتے⚠️ میں

6

ڈھی⚠️ ہے دینِ حق محبوبِ حق نے جو سکھایا ہے

علاوہ مصطفٰےؐ کے دیں کے باطِل ہیں سب رسیں⚠️

7

نبیؐ کی ذات کی محفِل ہے ساؔجِد نُورِ کی مجلس

سنائیں اور سنیں نقشِ شاہِؐ دیں ہم آپس میں