← شوقِ فراواں
وِلائے مصطفیٰؐ بُس جانے ہمارے دِل کے اُس میں
اَلٰی! عمر گزرے شاہِ مقدّس کے شہرِ مقدّس میں
خُدا کی ذات کی تقسیم ہے اِک اور نامکن
خُدا کی ذات ہے جو موجُود ہر کُس اور ناکس میں
جہاں سے جس قدر چاہے عَیاں ہو ذات بے ہمتا
مَشیّت ہے یہ سب کُس⚠️ اُس کی نہیں انسان کے بس میں
صِفاتِ حق کے جلووں کی زیارت گاہ یہ عالَم
ہیں اشیاء میں یہ جَلوے جس طرح خُوشبو نِہاں گُلشن میں
صِفات و ذات و اسما کے ہیں مظاہر سیّدِ عالَمؐ
انہیں محرابِ جاں کہتا ہوں میں کھا کھا کے⚠️ سوتے⚠️ میں
ڈھی⚠️ ہے دینِ حق محبوبِ حق نے جو سکھایا ہے
علاوہ مصطفیٰؐ کے دیں کے باطِل ہیں سب رسیں⚠️
نبیؐ کی ذات کی محفِل ہے ساجدؔ نُورِ کی مجلس
سنائیں اور سنیں نقشِ شاہِؐ دیں ہم آپس میں