شوقِ فراواں
1

شُکرِ خُدا کہ بندہ سُلطانِؐ دیں ہوں میں

آزادِ شجرؐ⚠️ بے مہار ایسا نہیں ہوں میں

2

در سب پہنچوں گا جاؤں گا چل کر میں سرِ پا

جوں ذروہ⚠️ اُن کی رہ میں اقامت گزیں ہوں میں

3

رہتی ہے میری روحِ مدینے میں رات دِن

گو "نارسم"⚠️ میں آج کل جیسا ہوں میں

4

لے جائے یہ صبا مجھے شہرِ رسُولؐ کو

اُڑتا ہوا فضا میں غُبارِ زمیں ہوں میں

5

آئیں گے مصطفٰےؐ جہاں ڈومے گا مِرا

اپنی دکھائیں گے مجھے صورت کہیں ہوں میں

6

پڑھتا ہوں میں درود خُدا کے رسُولؐ پر

شُکرِ خُدا خُدا کے قرینِ قَریں ہوں میں

7

ساؔجِد لگے ہیں ڈھیر مضامینِ نعت کے

حق کے کلام خُوش بیاں ہم کو یقین ہوں میں