شوقِ فراواں

شُکرِ خُدا کہ بندہ سُلطانِؐ دیں ہوں میں

آزادِ شجرؐ⚠️ بے مہار ایسا نہیں ہوں میں

در سب پہنچوں گا جاؤں گا چل کر میں سرِ پا

جوں ذروہ⚠️ اُن کی رہ میں اقامت گزیں ہوں میں

رہتی ہے میری روحِ مدینے میں رات دِن

گو "نارسم"⚠️ میں آج کل جیسا ہوں میں

لے جائے یہ صبا مجھے شہرِ رسُولؐ کو

اُڑتا ہوا فضا میں غُبارِ زمیں ہوں میں

آئیں گے مصطفیٰؐ جہاں ڈومے گا مِرا

اپنی دکھائیں گے مجھے صورت کہیں ہوں میں

پڑھتا ہوں میں درود خُدا کے رسُولؐ پر

شُکرِ خُدا خُدا کے قرینِ قَریں ہوں میں

ساجدؔ لگے ہیں ڈھیر مضامینِ نعت کے

حق کے کلام خُوش بیاں ہم کو یقین ہوں میں