شوقِ فراواں
1

گُلشن ایجاد میں کب جلوہ و جلوت نہیں

جمعِ زر اور خواب غفلت سے ہمیں فُرصت نہیں

2

بے نوازاں پر نبیؐ کا جب کھُلا بابِ کرم

وہ پکارا اٹھے کہ اب دِل میں کوئی حَسرت نہیں

3

سیّدِ کونین کی جن کو محبت ہے نصیب

کون سی قِسِمت میں اُن کی دولت و ثروت نہیں

4

دولتیں ہم پر لٹانے کو ہے رحمت بے قرار

اپنے دامانِ دِل میں اس قدر وسعت نہیں

5

جن کے لب پر ہے درودِ پاک وہ خُوش بخت ہیں

اِس سے پر لذت زیادہ کوئی بھی شربت نہیں

6

آپؐ کے رُخ کے تَصَوُّر میں گزاریں رات دِن

سرخوشی اس سے فزوں تر کوئی صورت نہیں

7

نعت گوئی ہے ساؔجِد میرے دِل کی زِندگی

میں تو مر جاؤں اگر آپؐ پر مِرے مِدحت نہیں