شوقِ فراواں
1

ہے ہجومِ کیف و مَستی شاہِؐ دیوانہ میں

زمزمِ عِرفانِ شاہؐ کے پیمانہ میں

2

نُور ہوتا ہے دِلِ عشاق کے غم خانہ میں

جس طرح چھپا ہو سنجؔ⚠️ پوشیدہ کسی دیوانہ میں

3

جوہرِ حکمت جو ہے سُلطانِؐ دیوانہ میں

اُس کا ذرہ بھی نہیں فلاطوں کے نہیں فرزانہ میں

4

سوختن⚠️ ہے شمع و پروانہ کی قدر مشترک

ہے تمنائے خُوش گُل⚠️ کے مرنے کی دیوانہ میں

5

جزو ہو سکتا نہیں ہے فطرتاً گُل سے جُدا

معدنِ گوہر سراپا ہے نِہاں ذرِ دانہ میں

6

آپؐ کے مشتاق بھرتے ہیں خُوشی کی جھولیاں

نُورِ پینا⚠️ ہے سراپا نُورِ کاشانہ میں

7

مصطفٰےؐ کے شہر میں ساؔجِد سُکوں کا سانس لیں

ہم رہیں گے تا کیے اس کوثرِ⚠️ بے گانہ میں