شوقِ فراواں

ہے ہجومِ کیف و مَستی شاہِؐ دیوانہ میں

زمزمِ عِرفانِ شاہؐ کے پیمانہ میں

نُور ہوتا ہے دِلِ عشاق کے غم خانہ میں

جس طرح چھپا ہو سنجؔ⚠️ پوشیدہ کسی دیوانہ میں

جوہرِ حکمت جو ہے سُلطانِؐ دیوانہ میں

اُس کا ذرہ بھی نہیں فلاطوں کے نہیں فرزانہ میں

سوختن⚠️ ہے شمع و پروانہ کی قدر مشترک

ہے تمنائے خُوش گُل⚠️ کے مرنے کی دیوانہ میں

جزو ہو سکتا نہیں ہے فطرتاً گُل سے جُدا

معدنِ گوہر سراپا ہے نِہاں ذرِ دانہ میں

آپؐ کے مشتاق بھرتے ہیں خُوشی کی جھولیاں

نُورِ پینا⚠️ ہے سراپا نُورِ کاشانہ میں

مصطفیٰؐ کے شہر میں ساجدؔ سُکوں کا سانس لیں

ہم رہیں گے تا کیے اس کوثرِ⚠️ بے گانہ میں