شوقِ فراواں

مدینے جائیں گے اکیلیاں⚠️ جب نگاہبانی میں

اکیلے⚠️ جائیں کہاں کمزور اور ناتوانی میں

ہمارے حال پہ آقاؐ کی مہربانی ہے

بڑا سُکون ہم کو بلا ہم کو زِندگانی میں

نبیؐ کی یاد میں یوں رات دِن گزرتے ہیں

بسر ہو زِندگی ماہی کی جیسے پانی میں

خُدا کے دستِ مکمل کی جاں فِزا درود

سُنی⚠️ فلَک نے ہے سرکارؐ نے کہانی میں

پیشِ جاں انہیں⚠️ دیکھا ناصیب والوں نے

بڑھاپے میں ہوا حاضِر کوئی جوانی میں

درود پڑھتا نبیؐ پر بہ صد خلوص و نِیاز

یکی⚠️ ہے دِل کی خُوشی اس جہانِ فانی میں

نبیؐ کی راہ پہ چلتا رہوں سدا ساجدؔ

اَلٰی! عمر مِری گزرے نعت خوانی میں